ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی میں سماجی کارکن ہرش مندر کے گھر اور دفتر پر ای ڈی کا چھاپہ

دہلی میں سماجی کارکن ہرش مندر کے گھر اور دفتر پر ای ڈی کا چھاپہ

Sat, 18 Sep 2021 11:51:44    S.O. News Service

نئی دہلی، 18؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  دبے ،کچلے  پسماندہ افراد اور مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنے والے مشہور سماجی کارکن  ہرش مندر کے گھر ، دفتر اور ان کے چلڈرن ہومس پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے چھاپہ ماری کی ہے۔ حالانکہ اس دوران  ہرش مندر صبح ہی اپنی اہلیہ کے ساتھ جرمنی روانہ ہوگئے تھے لیکن ای ڈی نے  اپنی کارروائی جاری رکھی ۔یہ چھاپہ ماری کئی گھنٹے تک جاری رہی ۔ اس دوران ای ڈی کے افسران نےکئی اہم دستاویز کی جانچ کی اور ان میں سے کچھ ضبط بھی کرلئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ای ڈی کچھ دستاویزوں کی جانچ کرنا چاہتی ہے۔ہرش مندر راجدھانی دہلی کے ادھ چینی علاقے میں ’سینٹرپر ایکویٹی اسٹڈیز (سی ای ایس) نامی ادارہ چلاتے ہیں۔  صبح تقریباً۹؍بجے ای ڈی کے افسران سی ای ایس کے دفتر اور ہرش مندر کے گھر پہنچ گئے۔ اس وقت دفتر کے چند ایک ملازم  ہی موجود تھے جب کہ ان کے گھر پر کوئی نہیں تھا۔ چھاپہ ماری کی کارروائی شروع ہوتے ہی سی ای ایس کے اکاؤنٹینٹ دفتر پہنچ گئے تھے۔ ساتھ ہی ہرش مندر کی بیٹی اور ان کے اہل خانہ بھی اطلاع ملنے پر پہنچ گئے تھے۔ ای ڈی افسران نے ان سبھی کے موبائل فون بند کر دیئے تھے۔ اُدھر’ امید امن گھر ‘کے نام  کے لڑکوں کے اسکول میں بھی ای ڈی کی ٹیم پہنچی تھی۔ وہاں بھی اس وقت مینجمنٹ کا کچھ اسٹاف موجود تھا جس نے ای ڈی کی ٹیم سے پورا تعاون کیا۔ 

  اس بارے میں ہرش مندر کے باوثوق ذرائع نے کہا کہ  کہ ہرش مندر اپنی بیوی کے ساتھ جمعہ کی علی الصباح ایک اسکالرشپ پروگرام میں حصہ لینے کے  لئےجرمنی  روانہ ہو گئے ہیں۔ انہیں یہ اسکالرشپ برلن کی رابرٹ بوش اکیڈمی نے دی ہے اور وہ وہاں 9 مہینے ٹھہرنےوالے تھے۔ ہرش مندر پر منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت یہ کارروائی کی جارہی ہے جسے دہلی پولیس نے درج کیا تھا اور ای ڈی اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر نوٹس لیتے ہوئے اپنے طور پر جانچ کررہی ہے۔ ہر چند کہ وہ معاملات فریب دہی سے متعلق بتائے گئے ہیں لیکن ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے زاویے سے تفتیش شروع کی ہےجس پر اور بھی زیادہ سوال اٹھ رہے ہیں۔ 

  دھیان رہے کہ ہرش مندر نے 2017میں کاروانِ محبت نام کی سول لبرٹی مہم شروع کی تھی جس کے تحت نفرت پر مبنی  جرائم کے متاثرین کی مدد کی جاتی ہے اور انھیں انصاف دلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر2020میں قومی حقوق  اطفال و تحفظ کمیشن نے بھی ہرش مندر سے جڑے جو چلڈرن ہوم ’امید امن گھر‘ اور ’خوشی ریمبو ہوم‘ پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپے اس وقت مارے گئے تھے جب دہلی میں سی اے اے مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ اس وقت ہرش مندر نے کہا تھا کہ حکومت ان لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو سی اے اے اوراین آر سی مخالف مظاہروں میں شامل ہوئے تھے۔ دہلی  کے فسادات کے سلسلے میں بھی دہلی پولیس نے ہرش مندر کا نام چارج شیٹ میں شامل کیا تھا۔اس پر بھی کافی تنقیدیں ہوئی تھیں۔ اس سال  فروری میں دہلی پولیس کی معاشی جرائم برانچ نے ان دونوں اسکولوں اور ہرش مندر کے ادارہ سی ای ایس کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ اس میں سی ایس پر  فریب  دہی اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔ پولیس نے یہ کیس حقوق اطفال تحفظ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا تھا اور جمعرات کو ہونے والی کارروائی اسی کیس کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ 


Share: